مبلغین دین لوگوں کی فکری مشکلات حل کرنے کے ساتھ دیگر سماجی مشکلات حل کرنے میں بھی کردار ادا کریں / ح ا ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی

مجلس علماء امامیہ پاکستان کے زیر اہتمام سرگودھا میں منعقدہ مبلغین امامیہ اور آئمہ مساجد کے ساتویں سالانہ اجتماع (عظمت غدیر  و عاشورا کانفرنس)  سے خطاب کرتے ہوئے مجلس علماء امامیہ پاکستان کے سربراہ اور ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری امور خارجہ حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے کہا مبلغین دین ایک دینی معاشرے کا بنیادی ترین ستون ہیں۔ مبلغ کو چاہئے کہ وہ معاشرے کی فکری الجھنیں سلجھانے کے ساتھ ساتھ دیگر سماجی مسائل کے حل میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔  

مجلس علماء امامیہ پاکستان کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے عید غدیر کے موقع پر تمام شرکاء کو مبارک باد پیش کی اور کہا عید غدیر عید امامت و ولایت ہے جسے آئمہ اہل بیتؑ نے عید اللہ الاکبر، یوم العھد المعھود اور یوم المیثاق الماخوذ کی تعبیرات سے یاد کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے آئمہ اہل بیتؑ کے ہاں عید غدیر انتہائی اہمیت کا حامل دن ہے۔ انہوں نے کہا یہ دن نظریہ امامت و ولایت کے ساتھ تمسک اور تجدید عہد کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب احمد مرسلؐ پر اپنی نعمتیں تمام کیں اور دین مبین اسلام کو پسند فرمایا۔ انہوں نے کہا مبلغ اسلام اللہ کے پسندیدہ دین اسلام اور کامل ترین دین کا مبلغ ہے لہذا مبلغ کو آج کے دن کی مناسبت سے جو پیغام لینا ہے وہ نظریہ امامت و ولایت کے ساتھ تمسک کے ذریعے اپنی شخصیت میں کمال اور اللہ کی رضایت کا حصول ہے اور یہی آج کے دن کا سب سے بڑا پیغام ہے۔

مبلغین امامیہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا مبلغین دین معاشرے میں اپنے اچھے مقام اور حیثیت کو لوگوں کی مشکلات کے حل میں بھی استعمال میں لائے۔ انہوں نے کہا مبلغ دین کی یہ ذمہ داری ہے کہ اگر اس کے اردگرد ظلم ناانصافی ہورہی یا فقر و تنگدستی کیوجہ سے کج روی پیدا ہورہی ہے تو وہ ان مشکلات پر توجہ دے اور سماج کے دیگر لوگوں کو ساتھ ملاکر ان مشکلا ت کے حل کی کوشش کرے۔

ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری امورخارجہ حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے مزید کہا مبلغ دین کو اپنی علمی و مطالعاتی صلاحتوں کو بڑھاتے رہنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا ہمارے معاشرے میں کئی ایک فکری الجھنیں ہیں جو نت نئے روپ میں سامنے آتی ہیں ایک مبلغ جو مطالعہ نہیں کرتا اور اپنی معلومات اور علم میں اضافہ نیں کرتا وہ ان مشکلات کا جواب تلاش نہیں کرسکتا اور فکری الجھنین سلجھانے میں معاشرے کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ مجلس علماء امامیہ کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے مبلغین اسلام کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا مبلغین کی ذمہ داریاں معاشرے کے دیگر افراد کی نسبت زیادہ ہیں کیونکہ ایک مبلغ کو دین کی نسبت دوسروں سے آگاہ تر اور دین پر عمل کے میدان میں دوسروں  سے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا ایک مبلغ کو اپنے بارے اس حسن ظن کو درست ثابت کرنا چاہیے کہ وہ حقیقت میں دین کی نسبت دوسروں سے زیادہ آگاہ تر اور دوسروں کی نسبت دین پر زیادہ عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا اگر خدانخواستہ ایک مبلغ دین ان دو خصوصیات پر عمل پیرا نہ ہوتو جہاں خود وہ فرد متاثر ہوتا ہے وہیں دین کے بارے لوگوں کو عمومی تاثر برا ہوجاتا ہے لہذا ایک مبلغ دین کو زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

سربراہ مجلس علماء امامیہ نے آخر میں بطور میزبان معزز شرکاء اور مقررین کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ یاد رہے مجلس علماء امامیہ پاکستان ایک تبلیغی پلیٹ فارم ہے جو مبلغین دین اور آئمہ مساجد کی استعداد پروری، فکری تربیت اور خدمات رسانی کا فریضہ انجام دے رہا ہے تاکہ ایک مبلغ موثر انداز میں دین مبین کی تبلیغ و ترویج کے قابل ہوسکے۔ تربیتی و فکری پروگرامات کے سلسلے میں سرگودھا میں منعقد ہونے والا یہ اس سال کا پہلا اجتماع تھا ۔ اگلے دو اجتماع بالترتیب گجرات اور کوٹ ادو میں منعقد ہوں گے جہاں ان علاقوں کے نزدیکی اضلاع سے مبلغین امامیہ شریک ہوں گے اور مقررین کے موضوعاتی خطابات سے مستفید ہوں گے۔

image_pdfSave as PDFimage_printPrint
Share this post

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے